زاد[2]

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - جنا ہوا، زائیدہ، اولاد، پیدا کردہ۔ "میری مراد یونیورسٹی زاد گر وہ سے ہے جو طریق تعلیم اور افتاد خیال اور وضع و قطع اور طرز ماندہ و بود کے اعتبار سے اپنی ایک جداگانہ ہستی قائم کر چکا تھا"      ( ١٩٢٢ء، مضامین محفوظ علی، ٢١٤ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'زادہ' کی تخفیف 'زاد' ہے۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اصل معنی اور اصل حالت میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٥٠٣ء، کو "نوسرہار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جنا ہوا، زائیدہ، اولاد، پیدا کردہ۔ "میری مراد یونیورسٹی زاد گر وہ سے ہے جو طریق تعلیم اور افتاد خیال اور وضع و قطع اور طرز ماندہ و بود کے اعتبار سے اپنی ایک جداگانہ ہستی قائم کر چکا تھا"      ( ١٩٢٢ء، مضامین محفوظ علی، ٢١٤ )

اصل لفظ: زادہ